Skip to main content

جن کا یہ وسیلہ لیتے ہیں وہ خود وسیلہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ الله کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوں

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
---------------------
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِهِۦ

ان سے کہو پکار دیکھو اُن کو جن کو تم خدا کے سوا ( اپنا ولی یا کارساز) سمجھتے ہو

فَلَا يَمۡلِكُونَ كَشۡفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمۡ وَلَا تَحۡوِيلاً

حالانکہ  وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ ہی بدل سکتے ہیں

 أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ يَبۡتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلۡوَسِيلَةَ

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کے ہاں رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں

أَيُّہُمۡ أَقۡرَبُ وَيَرۡجُونَ رَحۡمَتَهُ ۥ

کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے

 وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۥۤ‌ۚ

اور (وہ اُس کی رحمت کے اُمیدوار اور)  اُس کے عذاب سے خائف ہیں

انَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُورً۬ا

بےشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

سُوۡرَةُ الإسرَاء --٥٧-٥٦

Comments

Popular posts from this blog

Surah Qaf with Telugu Translation

Chapter 50 ----------------- بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قٓ‌ۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡمَجِيدِ (١)  بَلۡ عَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ۬ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ ٱلۡكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا شَىۡءٌ عَجِيبٌ (٢)  أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابً۬ا‌ۖ ذَٲلِكَ رَجۡعُۢ بَعِيدٌ۬ (٣)  قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡہُمۡ‌ۖ وَعِندَنَا كِتَـٰبٌ حَفِيظُۢ (٤)  بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِىٓ أَمۡرٍ۬ مَّرِيجٍ (٥)

حوضِ کوثر

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ----رسول اللہ صلی الله علیہ و سلّم نے فرمایا ہے----میں حوض کوثر پر ہونگا جو شخص میرے پاس سے گزرے گا پانی پئے گا اور جو پانی پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا -----البتہ میرے پاس بہت سی قومیں آئیں گی میں انکو پہچان لوں گا اور وہ مجھ کو پہچان لیں گے ----پھر میرے اور انکے درمیان کوئی چیز حائل کردی جائے گی ---میں کہوں گا یہ لوگ تو میرے ہیں یا میرے طریقے پر ہیں ---اس کے جواب میں بتایا جائے گا کہ تم کو معلوم نہیں انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی باتیں پیدا کیں -----( یہ سن کر ) میں کہوں گا ---وہ لوگ دور ہوں ----مجھ سے دور---- الله کی رحمت سے دور---- جنہوں نے میرے دین میں میرے بعد تبدیلی کر ڈالی مشکوة شریف جلد دوم حدیث ٥٣٠٦ حوض کوثر اور شفاعت کے بیان میں صحیح بخاری جلد سوم حدیث ١٤٨٧ کتاب الحوض

نفع و نقصان کا اختیار کسی کو بھی نہیں

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ---------------------- قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢا‌ۚ کہدو وہ کون ہے جو الله کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہوگا اگر الله تمہیں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا بلکہ الله تمہارے سب اعمال پر خبردار ہے سُوۡرَةُ الفَتْح-١١