Skip to main content

Posts

اللہ کے اذن کے بغیر اس کے حضور خلاف حق سفارش نہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  ---------------------- وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىِٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ كٰفِرِيْنَ ان کے ٹھیر ائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کےمنکر ہو جائیں گے سوره الروم  قرآن صاف طور پر کہتا ہے جو لوگ الله کے ساتھ اولیاء کو شریک کرتے تھے تاکہ انکے وسیلے سے انکی دعا الله کے ہاں مقبول ہو تو ان ولیوں میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا لیکن اس کے بعد بے شرم قبروں پر نذریں  اور منّتیں مانگتے تھکتے نہیں اب ان میں اور ہندوؤں میں کیا فرق رہ گیا ہے وہ لوگ پتھر کے بنے بتوں کو خدا کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور اپنے ہاں پوجا پاٹ کرتے ہیں اور یہ بزرگوں کی قبروں پر قوالیوں کی دھوم کرکے انہیں اللہ کے ساتھ دعا میں شریک کرتے ہیں 

عبادت کا مفہوم

آج نماز روزہ حج ہی کو مکمل عبادت سمجھا جاتا ہے -----جبکہ عبادت انسانی زندگی کا ہر وہ کام / فعل ہے جو الله کی نعمت یا انعام  اسلام ( باہم سلامتی ) کے جذبے ( تقویٰ ) کی بنیاد پر کیا جائے عبادت عربی لفظ ہے ------جب عبادت کا ترجمہ اردو میں کیا جاتا ہے ----تو ترجمے میں بھی لفظ عبادت ہی رکھا جاتا ہے عبادت ، عبد و معبود ایک ہی مادّے ( روٹ ورڈ ) سے جڑے الفاظ ہیں عبد معنے غلام ----اور معبود وہ جس کی غلامی یا خدمت کی جائے----اور عبادت وہ خدمت و سعی پیہم جو ایک عبد کے ہاتھوں معبود کے لئے کی جائے اگر زندگی کا مقصد الله کی نعمت کا حصول ہوجائے ---یا ----جذبہ نعمت باری تعالیٰ کی تکمیل ہوجائے تو ----انسان کی کل زندگی اور اس کا ایک ایک فعل اور حرکت ----عبادت میں تبدیل ہوسکتی ہے قرآن الحکیم ایسی نماز کو جس کی بنیاد تقویٰ نہ ہو ریاکاری / دکھاوا قرار دیتا ہے بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ------------------------- أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ اے نبیؐ ) کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے)  فَذَٲلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ وہی تو ہے جو یتیم ...

Surah Qaf with Telugu Translation

Chapter 50 ----------------- بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قٓ‌ۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡمَجِيدِ (١)  بَلۡ عَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ۬ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ ٱلۡكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا شَىۡءٌ عَجِيبٌ (٢)  أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابً۬ا‌ۖ ذَٲلِكَ رَجۡعُۢ بَعِيدٌ۬ (٣)  قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡہُمۡ‌ۖ وَعِندَنَا كِتَـٰبٌ حَفِيظُۢ (٤)  بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِىٓ أَمۡرٍ۬ مَّرِيجٍ (٥)

نبیؐ بھی اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ---------------------- قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِى نَفۡعً۬ا وَلَا ضَرًّا اے نبیؐ  ان سے کہو کہ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ‌ۚ اللہ جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَڪۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ‌ۚ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا إِنۡ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٌ۬ وَبَشِيرٌ۬ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سُنانے والا ہوں لِّقَوۡمٍ۬ يُؤۡمِنُونَ اُن لوگوں کےلیے جو بات مانیں سُوۡرَةُ الاٴعرَاف -١٨٨

وہ اللہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ---------------------- ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ۬ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ‌ۖ پھر عرش پر مستوی ہوا  مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ۬ وَلَا شَفِيعٍ‌ۚ تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی ولی ہے نہ شفاعت کرنے والا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ پھر کیا تم نہیں سمجھتے  يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ اور اس ( کی تدبیر کی روداد اوپر اُس ) کے حضور جاتی ہے فِى يَوۡمٍ۬ كَانَ مِقۡدَارُهُ ۥۤ أَلۡفَ سَنَةٍ۬ مِّمَّا تَعُدُّونَ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے سُوۡرَةُ السَّجدَة - 5

الله کے سوا کوئی نہیں جو تکلیف کو دور کرسکے

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ---------------------- وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ۬ فَلَا ڪَاشِفَ لَهُ ۥۤ إِلَّا هُوَ‌ۖ اوراگر الله تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں   وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٍ۬ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦ‌ۚ اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچانا چاہے توکوئی اس کے فضل کو پھیرنے والا نہیں   يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ‌ۚ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ اور وہی بحشنے والا مہربان ہے سوره یونس -١٠٧

نفع و نقصان کا اختیار کسی کو بھی نہیں

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ---------------------- قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢا‌ۚ کہدو وہ کون ہے جو الله کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہوگا اگر الله تمہیں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا بلکہ الله تمہارے سب اعمال پر خبردار ہے سُوۡرَةُ الفَتْح-١١
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلۡ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍ۬ مِّن رَّبِّى وَڪَذَّبۡتُم بِهِۦ‌ۚ  مَا عِندِى مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦۤ‌ۚ  إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ‌ۖ  يَقُصُّ ٱلۡحَقَّ‌ۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡفَـٰصِلِينَ

تکلیف کو دور کرنے والا الله کے سوا کوئی نہیں

تکلیف کو دور کرنے والا الله کے سوا کوئی نہیں یہی توحید تھی جس پر سے مسلمان کا یقین اٹھنے لگا ہے بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ --------------------------- وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ۬ فَلَا ڪَاشِفَ لَهُ ۥۤ إِلَّا هُوَ‌ۖ اوراگر الله تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں  وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٍ۬ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦ‌ۚ  اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچانا چاہے توکوئی اس کے فضل کو پھیرنے والا نہیں يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ‌ۚ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ  اور وہی بحشنے والا مہربان ہے سوره یونس -١٠٧

دعا میں اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ

دعا میں اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ 

وسیلے سے مراد قرب باری تعالیٰ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے

وسیلے سے مراد قرب باری تعالیٰ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے  اور وہ ذریعہ یا وسیلہ خود انسان کے اعمال صالحہ ہیں جو قبر میں اس کے ساتھ جاتے ہیں 

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام انکے حال سے ناواقف تھے تو یہ بزرگان کیسے واقف ہوجائیں گے اپنے مریدین سے ؟

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ------------------------- وَإِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ءَأَنتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَـٰهَيۡنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ‌ۖ اور جب الله فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے لوگو ں سے کہا تھا کہ الله کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی الٰہ بنا لو قَالَ سُبۡحَـٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنۡ أَقُولَ مَا لَيۡسَ لِى بِحَقٍّ‌ۚ وہ عرض کرے گا تو پاک ہے مجھے لائق نہیں ایسی بات کہوں کہ جس کا مجھے حق نہیں  إِن كُنتُ قُلۡتُهُ ۥ فَقَدۡ عَلِمۡتَهُ ۥ‌ۚ تَعۡلَمُ مَا فِى نَفۡسِى وَلَآ أَعۡلَمُ مَا فِى نَفۡسِكَ‌ۚ اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھے ضرور معلوم ہو گا جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جانتا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ بے شک تو ہی چھپی ہوئی باتو ں کا جاننے والا ہے مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَآ أَمَرۡتَنِى بِهِۦۤ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمۡ‌ۚ  میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ الله کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے...

Waseela

Since the word "WASEELA" has URDU origin as well as ARABIC origin -----many people misguid people because the URDU word "WASEELA" means "SOURCE (ZARIYA)" Since HOLY QURAN has been revealed in ARABIC language so the correct translation of the word "WASEELA" must be taken from ARABIC Using URDU translation of the URDU word will lead towards SHIRK 1. In SURAH MAIDA AYAT:35 the message of ALLAH ALMIGHTY is crystal clear that seek the nearness of ALLAH by two 2 ways: 1) By Taqwa of ALLAH ALMIGHTY ) 2) To strive hard in the way of ALLAH'S deen ( neamah ) Note :----Dear brothers and sisters calling upon Allah alone is the fundamental principle of Islam  no other religion possesses it, that's why, the Priests / Gurus etc. of ALL cults will try their VERY best to drag you from calling on HIM alone to calling on OTHERS  B E S I D E S  HIM

جن کا یہ وسیلہ لیتے ہیں وہ خود وسیلہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ الله کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوں

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ --------------------- قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِهِۦ ان سے کہو پکار دیکھو اُن کو جن کو تم خدا کے سوا ( اپنا ولی یا کارساز) سمجھتے ہو فَلَا يَمۡلِكُونَ كَشۡفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمۡ وَلَا تَحۡوِيلاً حالانکہ  وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ ہی بدل سکتے ہیں  أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ يَبۡتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلۡوَسِيلَةَ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کے ہاں رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں أَيُّہُمۡ أَقۡرَبُ وَيَرۡجُونَ رَحۡمَتَهُ ۥ کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے  وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۥۤ‌ۚ اور (وہ اُس کی رحمت کے اُمیدوار اور)  اُس کے عذاب سے خائف ہیں انَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُورً۬ا بےشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے سُوۡرَةُ الإسرَاء --٥٧-٥٦

وسیلہ الله کے قرب کا ذریعہ ہے اور انسان کا عمل اس کے لئے ذریعہ نجات و قرب بنے گا

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ --------------------- يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ اے ایمان والو الله کا تقویٰ اختیار کرو  وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ اور اس ( کے قرب ) کا وسیلہ تلاش کرو وَجَـٰهِدُواْ فِى سَبِيلِهِۦ اور الله کی ( نعمت کی ) راہ میں جدوجہد کرو  لَعَلَّڪُمۡ تُفۡلِحُونَ تاکہ تم فلاح پا سکو سُوۡرَةُ المَائدة -35

اطاعت ہی اللہ سے محبت کا ثبوت ہے اور محبت ایمان کی بنیاد ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ----------------------- قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى اے نبیؐ کہدو کہ اگر تم اللہ سے  محبت کرتے ہو تو تم میری اتباع کرو  يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ‌ۗ تو اللہ بھی تم سے محبت  کرے گا  اور تمہاری خطاؤں کو معاف  فرمائے گا  وَٱللَّهُ غَفُورٌ۬ رَّحِيمٌ۬ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے  قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ‌ۖ اور ) اُن سے کہو کہ (  اس محبت کا ثبوت ) اللہ اور رسُول کی اطاعت کرو )  فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَـٰفِرِينَ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت سے انکار کریں تو اللہ بھی ایسے کافروں سے محبت نہیں کرتا سُوۡرَةُ آل عِمرَان--٣٢-٣١

حوضِ کوثر

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ----رسول اللہ صلی الله علیہ و سلّم نے فرمایا ہے----میں حوض کوثر پر ہونگا جو شخص میرے پاس سے گزرے گا پانی پئے گا اور جو پانی پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا -----البتہ میرے پاس بہت سی قومیں آئیں گی میں انکو پہچان لوں گا اور وہ مجھ کو پہچان لیں گے ----پھر میرے اور انکے درمیان کوئی چیز حائل کردی جائے گی ---میں کہوں گا یہ لوگ تو میرے ہیں یا میرے طریقے پر ہیں ---اس کے جواب میں بتایا جائے گا کہ تم کو معلوم نہیں انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی باتیں پیدا کیں -----( یہ سن کر ) میں کہوں گا ---وہ لوگ دور ہوں ----مجھ سے دور---- الله کی رحمت سے دور---- جنہوں نے میرے دین میں میرے بعد تبدیلی کر ڈالی مشکوة شریف جلد دوم حدیث ٥٣٠٦ حوض کوثر اور شفاعت کے بیان میں صحیح بخاری جلد سوم حدیث ١٤٨٧ کتاب الحوض

الله کے فیصلوں میں بھی کوئی شریک نہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ --------------------- لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَىۡءٌ اے نبیؐ  فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کچھ حصہ نہیں أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡہِمۡ أَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَإِنَّهُمۡ ظَـٰلِمُونَ  اللہ کو (کُل ) اختیا ر ہے چاہے انہیں معاف کرے چاہے سزا دے پس وہ ظالم ہیں  وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ‌ۚ کیونکہ ) زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے)  يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ‌ۚ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے  وَٱللَّهُ غَفُورٌ۬ رَّحِيمٌ۬ اور اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے سُوۡرَةُ آل عِمرَان-١٢٩-١٢٨

دعا میں کسی کو بھی شامل و شریک نہیں کر سکتے

شرک فی الدُّعَا ---------------- بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ --------------------- قُلۡ إِنَّمَآ أَدۡعُواْ رَبِّى وَلَآ أُشۡرِكُ بِهِۦۤ أَحَدً۬ا کہہ دو میں تو اپنے رب ہی سے دعا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا قُلۡ إِنِّى لَآ أَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرًّ۬ا وَلَا رَشَدً۬ا کہہ دو میں نہ تمہارے کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اورنہ کسی بھلائی کا قُلۡ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌ۬ وَلَنۡ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدًا کہہ دو مجھے الله سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ مجھے اس کے سوا پناہ ملے گی إِلَّا بَلَـٰغً۬ا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَـٰلَـٰتِهِۦ‌ۚ مگر الله کا پیغام (نعمت صراط مستقیم ) اور اس کا حکم پہنچانا ہے وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ فَإِنَّ لَهُ ۥ نَارَ جَهَنَّمَ  اور جو کوئی الله اوراس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے خَـٰلِدِينَ فِيہَآ أَبَدًا جس میں وہ سدا رہے گا سُوۡرَةُ الجنّ --٢٣-٢٠

یہاں تو اولیاء بنانا ہی نہیں ہے

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ----------------------------- أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِى مِن دُونِىٓ أَوۡلِيَآءَ‌ۚ پھر جن لوگوں نے کفر کیا ( یعنی ہماری نعمت کو حق ماننے سے انکار کیا) خیال کرتے ہیں کہ کیا میرے سوا میرے بندوں کو اپنا کارساز ( یعنی اولیاء ) بنا لیں گے إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَـٰفِرِينَ نُزُلاً۬  بے شک ہم نے ایسے کافروں کے لیے دوزخ کو مہمانی بناکر رکھی ہے سوره الکہف -١٠٢